قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی
الجواب حامداً ومصلیا ومسلما
واضح رہے کہ قصر میں بال کاٹنے کی مقدار ایک مکمل پورا مقرر ہے، جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے۔
لیکن فقہاء فرماتے ہیں کہ صرف ایک مکمل پورا کاٹنا کافی نہیں، بلکہ اس سے کچھ زیادہ کاٹنا ضروری ہے،
کیونکہ سر کے بال ایک جیسے لمبے نہیں ہوتے۔
اگر بالکل ایک مکمل پورا ہی کاٹا جائے تو ہو سکتا ہے کچھ بال پورے کٹ جائیں اور کچھ پورے نہ کٹیں،
اس لیے چوتھائی سر کے بال ایک مکمل پورے کے برابر کٹنے چاہییں۔
بلکہ تھوڑا زیادہ کاٹا جائے تاکہ یقین ہو جائے کہ واجب مقدار پوری ہو گئی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص قصر کے وقت بس ادھر اُدھر سے تھوڑے تھوڑے بال کاٹ لیتا ہے اور اس طرح چوتھائی سر کے بال ایک مکمل پورے کے برابر نہیں کٹتے، تو یہ قصر میں شمار نہیں ہوگا اور احرام سے نہیں نکل سکتا ہے
اور اگر ادھر اُدھر سے کاٹنے کے باوجود چوتھائی سر کے بال ایک مکمل پورے یا اس سے کچھ زیادہ کٹ جائیں، تو ایسی صورت میں قصر ہو جائے گا۔