حج و عمرہ میں قصر کی مقدار - دار الافتاء

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

حج و عمرہ میں قصر کی مقدار

فتویٰ نمبر: 2026-047
تاریخِ اشاعت: 16 September 2026
باب: جنایات و دم
استفتاء / سوال:
اگر کوئی شخص قصر کے وقت سر کے بال ادھر اُدھر سے تھوڑے تھوڑے کاٹتا ہے، تو کیا یہ قصر میں شمار ہوگا یا نہیں؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامداً ومصلیا ومسلما
واضح رہے کہ قصر میں بال کاٹنے کی مقدار ایک مکمل پورا مقرر ہے، جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے۔
لیکن فقہاء فرماتے ہیں کہ صرف ایک مکمل پورا کاٹنا کافی نہیں، بلکہ اس سے کچھ زیادہ کاٹنا ضروری ہے،
کیونکہ سر کے بال ایک جیسے لمبے نہیں ہوتے۔
اگر بالکل ایک مکمل پورا ہی کاٹا جائے تو ہو سکتا ہے کچھ بال پورے کٹ جائیں اور کچھ پورے نہ کٹیں،
اس لیے چوتھائی سر کے بال ایک مکمل پورے کے برابر کٹنے چاہییں۔
بلکہ تھوڑا زیادہ کاٹا جائے تاکہ یقین ہو جائے کہ واجب مقدار پوری ہو گئی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص قصر کے وقت بس ادھر اُدھر سے تھوڑے تھوڑے بال کاٹ لیتا ہے اور اس طرح چوتھائی سر کے بال ایک مکمل پورے کے برابر نہیں کٹتے، تو یہ قصر میں شمار نہیں ہوگا اور احرام سے نہیں نکل سکتا ہے
اور اگر ادھر اُدھر سے کاٹنے کے باوجود چوتھائی سر کے بال ایک مکمل پورے یا اس سے کچھ زیادہ کٹ جائیں، تو ایسی صورت میں قصر ہو جائے گا۔

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
وأما التقصير فالتقدير فيه بالأنملة لما روينا من حديث عمر - رضي الله عنه - لكن أصحابنا قالوا: يجب أن يزيد في التقصير على قدر الأنملة؛ لأن الواجب هذا القدر من أطراف جميع الشعر، وأطراف جميع الشعر لا يتساوى طولها عادة بل تتفاوت فلو قصر قدر الأنملة لا يصير مستوفيا قدر الأنملة من جميع الشعر بل من بعضه فوجب أن يزيد عليه حتى يستيقن باستيفاء قدر الواجب فيخرج عن العهدة بيقين.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع کتاب الحج ، فصل مقدار واجب الحلق والتقصير، جزء 2 ص 141 دارالکتب العلمیہ
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء