جانور اس شرط پر پالنا کہ جو بچہ پیدا ہو وہ پالنے والا کا ہوگا |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

جانور اس شرط پر پالنا کہ جو بچہ پیدا ہو وہ پالنے والا کا ہوگا

فتویٰ نمبر: 2026-036
تاریخِ اشاعت: 11 September 2026
استفتاء / سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں ۔۔
ہمارے علاقے میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ ایک گھر میں بھیڑ بکریاں ہوں دوسرے گھر والا اس سے اس شرط پر جانور لے جائے کہ یہ اس جانور کو میں پال لونگا جانور کی ملکیت آپ ہی کی ہوگی لیکن یہ جانور جو بچہ دے گا وہ میرا ہوگا. چترال میں اس کو ژاوخ کہا جاتا ہے، تو پوچھنا یہ ہے کہ چترال میں رائج یہ طریقہ کار (ژاوک) یہ جائز ہے کہ نہیں؟؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

واضح رہے جانور کو بطور اجارہ اس شرط پر کسی کو پالنے کےلیے دینا کہ جو بچہ ہوگا اس کا آدھا میرا آدھا آپکا اور دوبچے ہونے کی صورت میں ایک میرا ایک آپکا ہوگا یہ صورت ناجاٸز ہے قفیز الطحان ( الاستیجار أو تعیین الاجرة ببعض مایخرج من عمل الاجیر)کے حکم میں ہے اجارہ فاسدہ ہے جس میں اجیر کے کام سے ہی اجرت دی جاتی ہے البتہ حنابلہ کے نزدیک یہ صورت بھی جاٸز ہے اور بوقت ضرورت بعض متأخرین محققین احناف( امداد الفتاوی ج ٣ص٣٤٢) نےحنابلہ کے مذھب پر بھی عمل کرنے کی اجازت دی ہے۔
البتہ ہمارے علاقہ چترال میں جو صورت راٸج ہے یعنی اپنے جانور کو کسی غریب کو اس شرط پر دینا کہ جانور کا جو بچہ ہوگا آپکا ہوگا یہ اجارہ فاسدہ کی صورت نہیں ہے یہ ایک تبرع اور احسان ہے لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت ایک تبرع اور احسان ہونے کی وجہ سے جاٸز ہے

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
دفع بقرة إلی رجل علی أن یعلفہا وما یکون من اللبن والسمن بینھما أنصافا فإلإجارة فاسدة( ھندیہ ٤/٥٤)
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی فاروق عبداللہ صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء