قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی
واضح رہے جانور کو بطور اجارہ اس شرط پر کسی کو پالنے کےلیے دینا کہ جو بچہ ہوگا اس کا آدھا میرا آدھا آپکا اور دوبچے ہونے کی صورت میں ایک میرا ایک آپکا ہوگا یہ صورت ناجاٸز ہے قفیز الطحان ( الاستیجار أو تعیین الاجرة ببعض مایخرج من عمل الاجیر)کے حکم میں ہے اجارہ فاسدہ ہے جس میں اجیر کے کام سے ہی اجرت دی جاتی ہے البتہ حنابلہ کے نزدیک یہ صورت بھی جاٸز ہے اور بوقت ضرورت بعض متأخرین محققین احناف( امداد الفتاوی ج ٣ص٣٤٢) نےحنابلہ کے مذھب پر بھی عمل کرنے کی اجازت دی ہے۔
البتہ ہمارے علاقہ چترال میں جو صورت راٸج ہے یعنی اپنے جانور کو کسی غریب کو اس شرط پر دینا کہ جانور کا جو بچہ ہوگا آپکا ہوگا یہ اجارہ فاسدہ کی صورت نہیں ہے یہ ایک تبرع اور احسان ہے لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت ایک تبرع اور احسان ہونے کی وجہ سے جاٸز ہے