قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی
الجواب حامدا و مصلیا
واضح رہے کہ معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے،اس کا وجود حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے زمانے میں ہوا۔ ”معتزلہ“ ؛ اعتزال سے اسم فاعل ہے، اعتزال کے معنی ہیں الگ ہونا ۔ اہل سنت والجماعت کے عقائد سے الگ ہو جانے کی بنا پر یہ فرقہ ”معتزلہ“ کہلایا۔ اس کا بانی واصل بن عطاء ہے۔ معتزلہ کے مذہب کی بنیاد عقل پر ہے وہ خود کو اصحاب العدل والتوحید کہتے ہیں اور نقل پر عقل کو ترجیح دیتے ہیں ۔ عقل کے خلاف قطعیات میں تاویلات کرتے ہیں اور ظنیات کا انکار کرتے ہیں
لیکن اہل السنت والجماعت میں سے کسی نے تکفیر کا قول نقل نہیں کیا ہے اس لئے معتزلہ سے نکاح بھی جائز ہے، البتہ معتزلہ میں جو عالم کے قدیم ہونے یا اس کے علاوہ کوئی
ایسا عقیدہ رکھتا ہوں جس سے کفر لازم آتا ہو تو اہل سنت کے نزدیک بھی وہ کافر ہیں۔