پاک قطر فیملی تکافل |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

پاک قطر فیملی تکافل

فتویٰ نمبر: 2026-034
تاریخِ اشاعت: 11 September 2026
باب: انشورنس اور تکافل
استفتاء / سوال:
حضرت مفتی صاحب پاک قطر فیملی تکافل کمپنی میں شامل ہونا ہونا کیسا ہے؟ وضاحت کریں مہربانی ہوگی۔
الجواب وباللّٰہ التوفیق

واضح رہے پاک قطر فیملی تکافل کمپنی کے بارے میں علمائے کرام کی رائے مختلف ہے کچھ حضرات اس کے جواز کے قائل ہیں اور ایک بڑی تعداد اس کے حرمت کے قائل ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ موجودہ معاشی نظام اکثر غیر مسلموں کی تشکیل کردہ ہے جس میں اسلامی اصولوں کا پاس نہیں رکھا گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود علمائے کرام اسلامی اصولوں کے مطابق معاشی نظام تشکیل دینے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں لیکن عالمی طور پر کفار کی معاشی نظام غیروں کی ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے کماحقہ اس پر عمل ممکن نہیں۔ اس لئے ہماری رائے میں بہتر یہی ہے جہاں انشورنش سے بچنا ممکن ہو وہاں تمام صورتوں سے گریز کرنا چاہیے۔ لیکن اگر کہیں قانونی طور پر انشورنش ناگزیر ہو تو پھر اسلامی کمپنیوں کو ترجیح دی جائے۔

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
حدیث شریف میں آیا ہے : عن النعمان بن بشير، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى، يوشك أن يواقعه.(صحيح البخاري، کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدينه، رقم الحدیث:52 ، ج:1/ص:23)،
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی ارمغان صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی محمد علی چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء