معتزلہ کون؟ |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

معتزلہ کون؟

فتویٰ نمبر: 2026-011
تاریخِ اشاعت: 02 September 2026
باب: ایمانیات و عقائد
استفتاء / سوال:
قاری صاحب ایک سوال ہے کہ معتزلہ کون ہیں اور معتزلہ کے بارے میں اہل سنت کا کیا موقف ہے ، اگر تفصیل سے اسکا جواب مل جائے
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامدا و مصلیا
واضح رہے کہ معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے،اس کا وجود حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے زمانے میں ہوا۔ ”معتزلہ“ ؛ اعتزال سے اسم فاعل ہے، اعتزال کے معنی ہیں الگ ہونا ۔ اہل سنت والجماعت کے عقائد سے الگ ہو جانے کی بنا پر یہ فرقہ ”معتزلہ“ کہلایا۔ اس کا بانی واصل بن عطاء ہے۔ معتزلہ کے مذہب کی بنیاد عقل پر ہے وہ خود کو اصحاب العدل والتوحید کہتے ہیں اور نقل پر عقل کو ترجیح دیتے ہیں ۔ عقل کے خلاف قطعیات میں تاویلات کرتے ہیں اور ظنیات کا انکار کرتے ہیں
لیکن اہل السنت والجماعت میں سے کسی نے تکفیر کا قول نقل نہیں کیا ہے اس لئے معتزلہ سے نکاح بھی جائز ہے، البتہ معتزلہ میں جو عالم کے قدیم ہونے یا اس کے علاوہ کوئی
ایسا عقیدہ رکھتا ہوں جس سے کفر لازم آتا ہو تو اہل سنت کے نزدیک بھی وہ کافر ہیں۔

مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی الطاف الرحمن صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء