یمین غموس کا حکم |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

یمین غموس کا حکم

فتویٰ نمبر: 2026-010
تاریخِ اشاعت: 02 September 2026
باب: قسم و نذر
استفتاء / سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ایک شخص پہلے ایک کام کیا ہے اس سے پوچھنے کے بعد وہ آدمی قسم کھاکر کہتا ہے کہ ایک کام میں نے نہیں کیا ہے۔اب وہ شخص شرمندہ ہے اور قسم کا کفارہ ادا کرنا چاہتاہے۔تو کیا جھوٹی قسم کھانے کی صورت میں قسم کا کفارہ ادا کرکے ذمہ فارغ ہوسکتا ہے۔۔۔؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامدا ومصلیا
واضح رہے کہ ماضی میں کئے ہوئے کام پر اگر کوئی شخص قسم کھائے تو اس قسم کو “یمین غموس”کہتے ہیں ازروئے شریعت ایسا شخص گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا تو ایسے شخص کو اللہ تعالی کے حضور توبہ و استغفار کرنا چاہیے توبہ استغفار کے علاوہ جھوٹی قسم پر کوئی کفارہ لازم نہیں آتا اس لئے توبہ استغفار لازم ہے ورنہ معافی نہیں۔
فقط واللہ اعلم بالصواب

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
فالغموس ھو الحلف علی امر ماض یتعمد الکذب فیہ،فھذہ الیمین یاثم فیھا صاحبھا لقولہ علیہ السلام"من حلف کاذبا ادخلہ اللہ النار"ولا کفارۃ فیھا الا التوبۃ والاستغفار" الھدایۃ،کتاب الایمان،ج2،ص 476
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی الطاف الرحمن صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء