قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی
الجواب حامدا ومصلیا
واضح رہے کہ ماضی میں کئے ہوئے کام پر اگر کوئی شخص قسم کھائے تو اس قسم کو “یمین غموس”کہتے ہیں ازروئے شریعت ایسا شخص گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا تو ایسے شخص کو اللہ تعالی کے حضور توبہ و استغفار کرنا چاہیے توبہ استغفار کے علاوہ جھوٹی قسم پر کوئی کفارہ لازم نہیں آتا اس لئے توبہ استغفار لازم ہے ورنہ معافی نہیں۔
فقط واللہ اعلم بالصواب