: السلام علیکم ۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے حوالے سے۔ پرانے قبرستان میں مسجد تعمیر کرنا جائز ھے یا نھیں ۔ دو صورتیں ھی ۔1 قبرستان کو مسمار کرکے۔ 2 قبرستان کے اردگرد سیمنٹ کے پیلر کھڑی کرکے اس کے اوپر تعمیر کرنا۔ وضاحت فرما کر ممنون ھو۔
مستفتی کرم الہی چترال موڑکہو۔
الجواب حامدا و مصلیا
واضح رہے کہ جو زمین قبرستان کے لئے واقف نے وقف کی ہے،اس کو دفن کے کام میں ہی لانا چاہیے، اگر یہ زمین مملوکہ ہے قبرستان کے وقف نہیں ہے اور قبروں کے آثار مٹ چکے تو اس پر مالکوں کی اجازت سے مسجد تعمیر کرنے کی دونوں صورتیں جائز ہیں۔
فقط واللہ اعلم بالصواب
"قال الحافظ رحمہ اللہ تعالی،فان قلت:ھل یجوز ان تبنی علی قبور المسلمین؟قلت:قال ابن القاسم رحمہ اللہ تعالی:لو ان مقبرہ من مقابر المسلمین عفت،فبنی قوم علیھا مسجدا،لم ار بذالک باسا،وذلک،لان المقابر وقف من اوقاف المسلمین لدفن موتاھم،لا یجوز لاحد ان یملکھا،فاذا درست واستغنی عن الدفن فیھا،جاز صرفھا الی المسجد،لان المسجد ایضا وقف من اوقاف المسلمین،لا یجوز تملکہ لاحد،فمعناھما علی ھذا واحدا" عمدۃ القاری،کتاب الصلوۃ،ج4،ص،265،دار الکتب رد المحتار میں ہے کہ "اذا بلی المیت،وصار ترابا،جاز الزرع،والبناء علیہ"رد المحتار،کتاب الصلوۃ،مطلب فی دفن المیت،ج2،ص،234
الطاف الرحمن اخوند
مفتی شاکر اللہ صاحب
14460039