سوال یہ ہے میرا مامو نے دو سال پہلے اپنا ذاتی زمین قبرستان کے لئے وقف کیا تھا اب وہ اس زمین کو فروخت کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے شرعا یہ جائز ہے۔جواب ارجنٹ ضرورت ہے۔
۔
فقط واللہ اعلم بالصواب
الجواب حامدا ومصلیا
واضح رہے کہ جب کوئی زمین قبرستان کے لئے وقف کی جائے تو وقف تام ہونے کے بعد موقوفہ جائیداد میں واقف یا کسی اور آدمی کو مصرف وقف کے علاوہ کسی تصرف کا حق حاصل نہیں
لہذا صورت مسؤلہ میں اگر مذکورہ پلاٹ آپ کے مامو نے باقاعدہ طور پر قبرستان کے لئے وقف کیا ہے اب وہ وقف تام ہوچکا ہے تو از روئے شریعت اس کی خرید و فروخت جائز نہیں
"واذا صح الوقف،لم یجز بیعہ،ولا تملیکہ۔ الھدایۃ،کتاب الوقف،ج2 ،ص619 رد المحتار میں ہے کہ"فاذا تم و لزم لا یملک ولا یملک،ولا یعار،ولا یرھن، قال ابن عابدین:قولہ(لا یملک)ای لا یکون مملوکا کا لصاحبہ،(ولا یملک)ای یقبل التملیک لغیرہ بالبیع و نحوہ۔رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الوقف،مطلب فرق ابو یوسف بین قولہ"موقوفۃ"ج6،ص،539
الطاف الرحمن اخون عفی عنہ 14 نومبر سن 2024ء
مفتی شاکراللہ
14460034