قاری صاحب ایک سوال ہے کہ معتزلہ کون ہیں اور معتزلہ کے بارے میں اہل سنت کا کیا موقف ہے ، اگر تفصیل سے اسکا جواب مل جائے
الجواب حامدا و مصلیا
واضح رہے کہ معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے،اس کا وجود حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے زمانے میں ہوا۔ ”معتزلہ“ ؛ اعتزال سے اسم فاعل ہے، اعتزال کے معنی ہیں الگ ہونا ۔ اہل سنت والجماعت کے عقائد سے الگ ہو جانے کی بنا پر یہ فرقہ ”معتزلہ“ کہلایا۔ اس کا بانی واصل بن عطاء ہے۔ معتزلہ کے مذہب کی بنیاد عقل پر ہے وہ خود کو اصحاب العدل والتوحید کہتے ہیں اور نقل پر عقل کو ترجیح دیتے ہیں ۔ عقل کے خلاف قطعیات میں تاویلات کرتے ہیں اور ظنیات کا انکار کرتے ہیں
لیکن اہل السنت والجماعت میں سے کسی نے تکفیر کا قول نقل نہیں کیا ہے اس لئے معتزلہ سے نکاح بھی جائز ہے، البتہ معتزلہ میں جو عالم کے قدیم ہونے یا اس کے علاوہ کوئی
ایسا عقیدہ رکھتا ہوں جس سے کفر لازم آتا ہو تو اہل سنت کے نزدیک بھی وہ کافر ہیں۔
وكذلك المعتزلة تنسب الكفر إلى غيرها بطريق المآل." شرح العقائد النسفیہ میں ہے کہ "ومعظم خلافیاتہ مع الفرق الإسلامیة خصوصاً المعتزلة لأنہم أول فرقة أسّسوا قواعد الخلاف لما ورد بہ ظاہر السنة وجری علیہ جماعة الصحابة رضوان اللہ علیہم أجمعین في باب العقائد وذلک لأن رئیسہم واصل بن عطاء اعتزل عن مجلس الحسن البصری رحمہ اللہ ویقرر ان من ارتکب الکبیرة لیس بموٴمن ولا کافر ویثبت المنزلة بین المنزلتین فقال الحسن قد اعتزل عنّا فسُمّوا المعتزلة وہم سمّوا أنفسہم أصحاب العدل والتوحید......الخ." ص:19،20، ط: بشری "تجوز مناکحۃ المعتزلۃ لأنا لا نکفر أحدا من أھل القبلۃ وإن وقع إلزاما في المباحث" الدر المختار مع رد المحتار،ج،3۔ص42
الطاف الرحمن اخون عفی عنہ 5 اکتوبر سن 2024ء
مفتی شاکر اللہ عفی عنہ دارالافتاء والارشاد والٹن روڈ لاہور و عالمی دارالافتاء
14460035