• پہلا صفحہ
  • فتاوی
  • قرانی وظائف و دعائیں
  • ہمارے بارے میں
Menu
  • پہلا صفحہ
  • فتاوی
  • قرانی وظائف و دعائیں
  • ہمارے بارے میں

تین طلاق کا حکم

تاریخ: April 4, 2025 | مفتی: alichitrali | کیٹیگری: تین طلاقیں, نکاح / طلاق

متعلقہ فتاویٰ

  • شوہر نان نفقہ نہ دے
  • مدرسہ کی تعمیر میں زکوۃ دینا
  • وقف کرنے کے بعد فروخت کرنا

تین طلاق کا حکم

سوال:

میں مسمات زائدہ بی بی دختر محمد طارق بقائمی ہوش و حواس حلفیہ اقرار کرتی ہوں کہ میرے خاوند محمد ظہیر ولد ملک محمد یعقوب نے تحریری طور پر پہلی طلاق مؤرخہ  19/01/2017  کو دی تھی، اور پھر دوسری طلاق بھی تحریری طور پر 28/02/2017 کو دی تھی،  اور پھر زبانی طور پر تیسری طلاق 05/08/2023 کو دے دی ہے ۔ اب میرے سابقہ شوہر تحریری طور پر مجھے تیسری طلاق کے کاغذات نہیں دے رہے ہیں نئی زندگی شروع کرنے کے لیے ۔نیا  نکاح رجسٹر کروانے کے لیے تیسری طلاق بھی تحریری طور پر ہونا ضروری ہے ۔
شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے کہ کیا طلاق ثلاثہ واقع ہو چکی ہے ؟اب میں نئی زندگی شروع کر سکتی ہوں؟ اگر میرے سابقہ شوہر تحریری طور پر تیسری طلاق لکھ کر نہ دیں تو پھر کیا حکم ہے؟
تنقیحات : تنقیح نمبر 1 : پہلی اور دوسری طلاقیں کن الفاظ کے ساتھ  تھیں؟
تنقیح نمبر 2 : دوسری طلاق کے بعد رجوع یا تجدید نکاح ہوا تھا یا نہیں؟
جوابات : دونوں طلاقیں صریح الفاظ کے ساتھ تھیں۔

  جی ہاں !  اس کے بعد تجدید نکاح ہوا تھا۔

جواب:

الجواب حامداً و مصلیاً
صورتِ مسئولہ میں زبانی طور پر تیسری طلاق دینے سے سائلہ پر طلاق ثلاثہ واقع ہو چکی ہیں ۔شریعت کی رو سے عدت گزارنے کے بعد سائلہ نئی زندگی شروع کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ زبانی طور پر طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ طلاق کے وقوع کے لیے طلاق کے الفاظ کا تحریری طور پر ہونا شرعاً ضروری نہیں ہے، لہذا دوسرے نکاح کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ زبانی طلاق دینے کے بعد عورت نے عدت گزار دی ہو۔ عدت کے بعد نئی زندگی شروع کرنا(کسی اور جگہ نکاح کرنا) اس کے لیے شرعاً جائز ہے۔
فقط واللہ اعلم بالصواب

🔹 حوالہ:

فتاوی ھندیہ ، کتاب الطلاق ، الباب السادس فی الرجعۃ ، ۱/۴۷۳ ،ط: دارالفکر بیروت وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية. فتاوی تاتارخانیۃ ،کتاب الطلاق، الفصل الرابع، فيما يرجع إلى صريح الطلاق، ۴/۴۲۷ ، ط: مکتبۃ رشیدیۃ وفي الظهيرية: ومتى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء كقوله: يا مطلقة أنت طالق ... وفي الحاوي: ولو قال ترا يك طلاق يك طلاق يك طلاق! بغير العطف وهي مدخول بها تقع ثلاث تطليقات۔

✅ المجیب:

نوید حیات ربانی

✅ تصدیق کنندگان:

مفتی شاکراللہ صاحب مدظلہ

📌 فتویٰ نمبر:

1460033

تین طلاق کا حکم

Recent Comments

No comments to show.

Archives

  • April 2026
  • August 2025
  • April 2025
  • March 2025
  • حقوق و معاشرت (9)
    • اخلاق / آداب (2)
      • بالوں کے احکام و آداب (1)
      • ظلم / مظالم/دھوکہ، فراڈ (1)
    • نکاح / طلاق (7)
      • تین طلاقیں (1)
      • رضاعت (1)
      • فسخ و تفریق (1)
      • محرمات (2)
      • مہر / جہیز / بارات (1)
      • نان و نفقہ (2)
  • عبادات (11)
    • حج / عمرہ (1)
    • ذبیحہ / قربانی (1)
      • عقیقہ اور اس کے احکام (1)
    • زکوٰۃ / صدقات (3)
      • ادائے زکوٰۃ (1)
      • سونے ، چاندی اور نقد کی زکوٰۃ (1)
      • عشر و خراج (1)
      • مصارف زکوٰۃ (1)
    • نماز (6)
      • جماعت / امامت (2)
      • جمعہ و عیدین (1)
      • مسجد کے آداب و احکام (3)
  • عقائد (3)
    • اسلامی عقائد (1)
      • قبر و آخرت (1)
    • بدعات / رسوم (1)
      • بدعات (1)
    • مذاہب / مسالک (1)
      • معتزلہ (1)
  • معاملات (9)
    • بیع / تجارت (3)
      • بیع صحیح ، فاسد اور باطل (1)
      • نقد اور ادھار خرید و فروخت کے احکام (2)
    • حدود / قصاص (1)
      • قصاص و دیت (1)
    • سود / بینکاری / انشورنس / شیئرز (2)
      • سودی قرضہ کی لین دین (1)
      • قرض کے احکام (1)
      • متفرقات سود (1)
    • وراثت / وصیت (4)
      • میت کی وصیت اور اقرارات (1)
      • ورثاء اور ان کے حصص (2)
  • ممنوعات و مباحات (1)
    • قسم / منت (1)
      • قسم و کفارات (1)