جی ہاں ! اس کے بعد تجدید نکاح ہوا تھا۔
الجواب حامداً و مصلیاً
صورتِ مسئولہ میں زبانی طور پر تیسری طلاق دینے سے سائلہ پر طلاق ثلاثہ واقع ہو چکی ہیں ۔شریعت کی رو سے عدت گزارنے کے بعد سائلہ نئی زندگی شروع کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ زبانی طور پر طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ طلاق کے وقوع کے لیے طلاق کے الفاظ کا تحریری طور پر ہونا شرعاً ضروری نہیں ہے، لہذا دوسرے نکاح کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ زبانی طلاق دینے کے بعد عورت نے عدت گزار دی ہو۔ عدت کے بعد نئی زندگی شروع کرنا(کسی اور جگہ نکاح کرنا) اس کے لیے شرعاً جائز ہے۔
فقط واللہ اعلم بالصواب
فتاوی ھندیہ ، کتاب الطلاق ، الباب السادس فی الرجعۃ ، ۱/۴۷۳ ،ط: دارالفکر بیروت وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية. فتاوی تاتارخانیۃ ،کتاب الطلاق، الفصل الرابع، فيما يرجع إلى صريح الطلاق، ۴/۴۲۷ ، ط: مکتبۃ رشیدیۃ وفي الظهيرية: ومتى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء كقوله: يا مطلقة أنت طالق ... وفي الحاوي: ولو قال ترا يك طلاق يك طلاق يك طلاق! بغير العطف وهي مدخول بها تقع ثلاث تطليقات۔
نوید حیات ربانی
مفتی شاکراللہ صاحب مدظلہ
1460033